بنگلورو،8؍جولائی(ایس او نیوز) ریاست کے موجودہ سیاسی بحران کے درمیان سینئر کانگریسی لیڈر اور رکن اسمبلی آر روشن بیگ نے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی کانگریس کی لاپروائی اور چند لیڈروں کی انانیت اور تکبر موجودہ صورتحال کے لئے ذمہ دار ہے۔ رکنیت اسمبلی کے استعفیٰ سے متعلق قیاس آرائیوں کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فی الوقت وہ سفر حج بیت اللہ کے لئے عازمین کی روانگی کے انتظامات میں مصروف ہیں ان کو روانہ کرنے کی تقریب کے بعد وہ اس سلسلہ میں اپنا موقف واضح کریں گے۔ اس سوال پر کہ کیا اے آئی سی سی جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے ان کو منانے کے لئے رابطہ کرنے کی کوشش کی اور اگر کی تو وہ ان سے ملاقات کریں گے؟۔ روشن بیگ نے کہا کہ وہ کسی لیڈر سے ملاقات کے لئے نہیں جائیں گے، البتہ کانگریس کے رہنما ان سے ملاقات کرناچاہیں تو ان کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔ انہونے کہا کہ کانگریس کے ریاستی رہنماؤں نے انہیں سچ بولنے کی سزادی اور انہیں کانگریس سے معطل کردیا۔ جس وقت معطل کیاگیاتو انہیں یہ خیال نہیں آیا کہ روشن بیگ بھی کانگریس میں کچھ اہمیت کاحامل ہے۔ اب جبکہ دن رات کانگریس سے وفاداری کادم بھرنے والوں نے علاحدگی اختیار کرلی توروشن بیگ کو منانے کی بات کہی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ2ماہ قبل ہی انہوں نے آنے والے سیاسی حالات کااندازہ کرتے ہوئے پیشین گوئی کی تھی کہ اقلیتوں،دلتوں اور پسماندہ طبقات کو اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا اور موجودہ حالات کے تناطر میں مصالحت کرنی پڑے گی۔ اب رفتہ رفتہ تمام کی سمجھ میں یہ بات آرہی ہے کہ حالات نے کچھ ایسی کروٹ لی ہے کہ مصالحت ناگزیر ہے۔ ریاستی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ کے بارے میں ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ عازمین حج کے روانہ ہونے کے بعد جلد ہی وہ خود ایک اخباری کانفرنس طلب کرکے اپنا سیاسی موقف واضح کریں گے۔